واشنگٹن 2مارچ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )امریکی صدر کی طرف سے اسٹیل اور ایلومونیم کی درآمدات پر نئے ٹیکس متعارف کرانے کے منصوبے پر واشنگٹن کے تجارتی پارٹنرز نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کینیڈا اور یورپی یونین کے مطابق اگر ایسا ہوا تو وہ بھی جوابی اقدامات کریں گے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی نے میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے اسٹیل اور ایلومونیم کی درآمدات پر نئے ٹیکس متعارف کرانے کے منصوبے پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ اسٹیل کی درآمد میں پچیس جبکہ ایلومونیم کی درآمد میں دس فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔اس اقدام کا مقصد امریکی مصنوعات کو تحفظ فراہم کرنا بتایا گیا ہے تاہم ناقدین کے مطابق یہ کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہے۔ ان ماہرین کے مطابق اس طرح امریکا میں ملازمتوں کے مواقع بچائے نہیں جا سکتے بلکہ اس کے اثرات کی وجہ سے صارفین کو مصنوعات خریدنے کے لیے زیادہ رقوم خرچ کرنا پڑیں گی۔دوسری طرف کینیڈا اور یورپی یونین نے اس مجوزہ منصوبے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ بھی جوابی اقدامات کریں گے۔ برازیل، چین اور میکسیکو نے بھی کہا ہے کہ اگر امریکا اسٹیل اور ایلومونیم کے درآمدات پر ٹیکسوں کو بڑھاتا ہے تو ان کی طرف سے بھی ردعمل آئے گا۔ اسٹیل اور ایلومونیم جیسی دھاتیں تعمیرات اور مصنوعات سازی کے لیے انتہائی اہم ہیں اور امریکا میں ان کی مانگ بہت زیادہ ہے۔امریکا کی طرف سے ان اہم دھاتوں کی درآمدات کی ٹیکس میں اضافے کی تجویز کے عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔ جمعرات کے دن ڈو جونز کے صنعتی اوسط میں 2.3 فیصد کی کمی دیکھی گئی جبکہ جمعے کے دن اس کے اثرات ایشیائی منڈیوں میں بھی نظر آئے۔ٹوکیو، جاپان، ہانگ کانگ، سڈنی اور سیؤل میں بھی ان دھاتوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔ چین نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریڈ پروٹیکشن کے تحت کیے جانے والے اقدامات میں صبر وتحمل سے کام لیا جائے۔یورپی یونین کے کمشنر ڑان کلود ینکر نے واشنگٹن کے اس منصوبے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس امریکی اقدام پر ’یورپی یونین مؤثر ردعمل‘ ظاہر کرے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ان غیر منصفانہ اقدامات کی وجہ سے یورپ میں ہزاروں ملازمتوں کو خطرات لاحق ہو جائیں گے اور اس صورتحال پر ہم خاموش نہیں رہیں گے۔‘‘ کینیڈا کے وزیر تجارت نے اس پیشرفت پر زیادہ سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’ہمارے ملک کی اسٹیل یا ایلومونیم انڈسٹری پر کسی ٹیکس یا کوٹہ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘